ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

سرینگر / 24مئی /این این این //سرینگر کے صورہ علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی.

سرینگر / 24مئی /این این این//نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد.

سرینگر / 24مئی /این این این /جنوبی ضلع اننت ناگ کے سنگم علاقے میںسڑک کے المناک.

نام کتاب خرافات

   60 Views   |      |   Wednesday, May, 25, 2022

نام کتاب خرافات

ایس معشوق احمد

مصنف :- ڈاکٹر محمد شفیع ایاز
صحفات :- 112
قیمت :-350
مبصر :- ایس معشوق احمد
رابطہ:-8493981240

ایک عرصے تک ناقدین اس بحث میں الجھتے رہے کہ انشائیہ کیا ہے؟اس کے خدو خال ، تعریف ، تکنیک اور اسالیب کیا ہیں؟کبھی کہا گیا کہ انشائیہ میں تخلیقی موڈ ضروری ہے تو کبھی یہ اصرار بڑھا کہ انشائیہ بنیادی طور پر تفریحی کا ذریعہ ہے۔کسی نے نعرہ بلند کیا کہ انشائیہ بامقصد تحریر ہے تو کبھی یہ صدا لگائی گئی کہ بے مقصد تحریر انشائیہ ہے۔کسی نے کہا کہ حمکت کی باتیں انشائیہ میں کی جاتی ہے تو کوئی یہ بانگ دے رہا تھا کہ انشائیہ میں حماقت کی باتیں کی جاتی ہیں۔غرض انشائیہ کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بھی کہی گئی ہیں جو کم وبیش ہر صنف پر صادق آتی ہیں۔انشائیہ میں اختصار ، تاثیر ، فنی مہارت ، انکشاف ذات، زبان و بیان کی خصوصیات ہونی چاہیے لیکن سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ تمام خصوصیات دیگر اصناف میں بھی ہوتی ہیں۔بقول ڈاکٹر اسد اریب ” انشائیہ کیا ہے خود انشائیہ لکھنے والے نہیں سمجھ سکے “۔
کشمیر کے جو ادیب فکشن اور شاعری لگاتار لکھ رہے ہیں ان میں ڈاکٹر محمد شفیع ایاز کا نام منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر ایاز تین زبانوں میں لکھتے ہیں اور تینوں زبانوں میں ان کی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔افسانہ نگاری ہو یا شاعری ڈاکٹر ایاز کا قلم بڑی روانی سے چلتا ہے۔افسانہ نگاری کی بات کی جائے تو ڈاکٹر ایاز کا پہلا افسانوی مجموعہ ” درد پنہاں ” کے عنوان سے 1999ء میں چھپا ہے۔اس کے بعد تین اور افسانوی مجموعے پگڈنڈی کا مسافر (2011) ء ، فیصلہ ابھی باقی ہے ( 2016)ء اور آدھے ادھورے لوگ 2020 ء میں شائع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر ایاز کے پانچ شعری مجموعے تلاش سحر (2010)ء ، شب تنہائی ( 2012)ء ، تم یاد کرو گے (2013)ء ، شام ہونے لگی ( 2014)ء اور برستے ہی نہیں بادل (2016 ) منظر عام پر آچکے ہیں۔ ڈاکٹر ایاز کی تازہ تصنیف ” خرافات “کے عنوان سے 2021 ء میں منصہ شہود پر آئی۔اس کتاب کو زی پبلکیشنز نے چھاپا ہے۔کتاب کا انتساب ” اس سچائی کے نام جو بہت کڑوی ہے اور ناقابل برداشت ہے اور اب دوسرے روپ میں ڈھل کر قابل برداشت ہوسکتی ہے” کے نام کیا گیا ہے۔یہ کتاب چھتیس طنزیہ کالموں کا مجموعہ ہے۔ان کالموں میں کڑوا سچ شہد میں ڈبو کر پیش کیا گیا ہے۔اگرچہ کتاب پر “انشائیے” درج ہے لیکن انہیں کالم کے دائرے میں رکھنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔ خود مصنف نے بھی اقرار کیا ہے کہ ” خرافات کڑوے سچ اور حقائق کو میٹھے انداز میں پیش کرنے کی میری ایک کوشش ہے۔دراصل یہ ” ابوادا ” کے نام سے ایک اردو ہفتہ روزہ اخبار ” سبزار” میں شائع شدہ کالموں اور تحریروں پر مشتمل ہے۔”
سرشار صدیقی کے خیال میں ” انشائیہ ایک ایسا لیبل ہے جسے کسی بھی غیر مانوس تحریر کی پیشانی پر چسپاں کیا جا رہا ہے”۔ خرافات کے کالموں پر بھی یہ لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس مجموعے میں سٹیٹس سمبل ،یہی سیاست ہے ، شفا خانے سے دوا خانے تک ، نوکری چاہیے تنخواہ ملے نہ ملے ، دال میں کچھ کالا ہے، ان پڑھ گریجویٹ، جھنڈے کا فنڈا، میں پھتر باز ہوں لیکن ۔۔۔، مسیحا کی تلاش ، حسرت ہے اس حضرت انسان پر ،عوام کون؟ ،تیرے وعدے پر جئے ہم ، قوم کے غم میں کھاتے ہیں ڈنر ، ہم کسی سے کم نہیں ،شاید کہ اتر جائے تیری دل میں میری بات ، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے میں ظاہر داری ، معاشرے ، سیاست دانوں ، لوگ کی ذہانت ، بے ایمانوں ،حالات حاضر اور ڈاکٹری جیسے پیشے کو کاربار بنانے والے منافع خوروں پر خوبصورت انداز میں طنز کے تیر برسائے گئے ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند مثالیں پیش کی جائیں۔
” پچھلے دنوں ویجیلنس والوں نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا۔تمہیں تو پتا ہے ہماری ترقی ہمارے اڑوس پڑوس کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔مکان بنایا ،گاڑی لی تو آنکھوں میں کانٹا بن گئے۔پہلگام میں جو ہماری ہٹ ہے وہ تو آج سے دس سال پہلے ہم نے تعمیر کی ہے اور جموں کا مکان تو پچھلے سال 90 لاکھ روپے میں خریدا۔اللہ کے فضل و کرم سے دلی میں ایک فلیٹ تو پہلے ہی موجود تھا اور اپنا ایک باغ ہے۔اب کیا کریں خدا کی اس ناگہانی عنایت سے سماج میں ہم جو اعلی ” سٹیٹس سمبل ” حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ،ہمارے دشمنوں کو جلن ہوتی ہے اور کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نقصان پہنچے۔خیر چھوڑو ان باتوں کو۔جس کے پاس کوئی سٹیٹس سمبل” نہ ہو وہاں ویجی لنس کا کیا کام؟ ہمارے پاس سب کچھ ہے اسی لئے ویجی لنس والوں کا ہمارے گھر آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں”۔
سٹیٹس سمبل _ صحفہ 14
“پرانی کہاوت ہے محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔زمانہ بدل رہا ہے اور اس کے ساتھ کہاوتیں یا تو بدل گئیں یا ان کا دائرہ وسیع ہوا۔یہی حال اس کہاوت کا بھی ہوا۔اب محبت اور جنگ کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی سب کچھ جائز ہے۔یہ سیاست بھی عجیب کھیل ہے۔ کل تک اپنے رقیبوں کو گندی نالی کے کیڑے کہنے والے آج انہیں اپنے سر کے تاج بنارہے ہیں اور قوم دشمن، کنبہ پرور اور استحصالی قوتوں کو نہایت بے شرمی سے اعلی درجہ دے رہے ہیں۔”
یہی سیاست ہے _صحفہ _ 16
” ہم کیا چاہیے؟…چاہنے سے اگر سب کچھ ملتا تو سرے سے ہی لوگ کچھ کرتے ہی نہیں بلکہ چاہتے اور ہوجاتا۔” ‘چاہنے ‘اور ہونے میں بڑا فرق ہے۔اس کے لئے ہمت ،تدبیر، طاقت اور پکے ارادوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ہمارے اس غریب قوم میں کہیں موجود نہیں۔اگر کہیں موجود بھی ہے تو وہ نقار خانے میں طوطی کی صدا کے مترادف ہے۔”
مسیحا کی تلاش _ صحفہ 21
” دوا خانوں کی بدولت اس قوم نے کیا کیا نہ دیکھا، کتنے گل کھلائے ان دو خانوں نے۔نشیلی دوائیوں کا کاربار دوائی کے نام پر ہونے لگا اور کتنے ہی گھروں کے چشم چراغ اس وباء کے شکار ہوئے۔ایک طرف بہت سارے نوجوان تباہ و برباد ہوگئے اور دوسری طرف ان دوا فروشوں نے لاکھوں روپیہ کما لئے۔ویسے ڈاکٹر اور دوائی بیچنے کا کاربار آج عروج پر ہے۔آپ کو ہر شہر اور قصبے میں پالی کلنک اور پرائیوٹ پریکٹائزنگ دکانیں ملیں گی جہاں ڈاکٹر حضرات من مانی فیس وصول کرتے ہیں اور مریضوں کے ہاتھوں اپنی من پسند سب اسٹنڈرڈ کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات کا ایک بڑا نسخہ تھمادیتے ہیں کیونکہ یہ کمیشن کی بات ہے”
شفا خانے سے دوا خانے تک صحفہ 31.
ان کالموں میں طنزیہ مزاحیہ اسلوب اپنایا گیا ہے۔ہلکے پھلکے انداز میں برائیوں کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں اور سیدھے سادے انداز میں کام کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ بعض باتیں البتہ دہرائی گئی ہیں۔جیسے کتاب میں ” استاد گو سفندان ” ( صحفہ 24) کے طنزیہ کالم جس میں رشوت پر نوکر حاصل کرنے والے استاد کو طنز کا نشانہ بنایا گیا اور ” ان پڑھ گریجویٹ ” (صحفہ 58 ) دونوں میں یہ اقتباس ملتا ہے
“ایک استاد اپنے کلاس روم میں اردو کا مضمون پڑھا رہے تھے تو کسی شریر لڑکے نے ماسٹر جی سے ” آئے بہار کو ہم بانٹ لیں ” کا مطلب پوچھا۔ماسٹر جی نے اپنے والد کے ساتھ 1990 ء میں میٹرک کا امتحان بیرونی امداد پر فسٹ کلاس میں پاس کیا تھا اور کمانڈر کی سفارش پر محکمہ تعلیم میں مدرس مقرر ہوا تھا۔اپنا نام لکھنے کے سوا اس کو کچھ آتا بھی نہیں تھا۔خیر لڑکے نے پوچھا جواب تو دینا تھا۔فورا دوسرے استاد سے مدد طلب کی۔وہ بھی غضب کے استاد تھے ۔سجھایا کہ اصل میں یہ شعر ” آئے بہار کو ہم بانٹ لیں ” نہیں بلکہ ” آئے بہار کو ہم بانٹ لیں ” ہے۔یہ ان دنوں کا شعر ہے جب بہار صوبہ کو دو حصوں یعنی بہار اور جھارکھنڈ میں باٹنے کی تحریک چل رہی تھی۔”مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خرافات میں خرافات سے پرہیز برتا گیا ہے اور سادہ میں زیادہ کہنے کی سعی کی گئی ہے جس میں مصنف کامیاب رہے ہیں۔اس میں ایک نئے انداز اور طرز سے معاشرے میں پھیلی برائیوں،اخلاقی گراوٹ ، سیاسی حالات اور معاشی معاملات کو اجاگر کیا گیا ہے۔خرافات میں ڈاکٹر محمد شفیع ایاز نے سیاست دانوں کی مکاری ، انسانوں کی عیاری ، عوام کی مجبوریوں ، واہیات لکھنے والے شاعروں ، اپنے منہ میاں مٹھو بنے ادبیوں ، رشوت کے بنا پر نوکری حاصل کرنے والے ان پڑھ استادوں سے کر ان لاتوں کے بھوتوں کو موضوع بنایا ہے جو باتوں سے نہیں مانتے اور ان سب کو طنز کا نشانہ بھی بنایا ہے۔جس کو موجودہ دور کے حالات واقعات، پتھر بازی ، نیتاگری ، جھنڈے کا فنڈا ،لوگوں کی ذہانت ،شاعر اور شاعری اور مداری کا تماشا دیکھنا ہو اس کو خرافات کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر ادبی فورم نے اس سال بھی فن افسانہ کو فروغ دینے کے.

نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر ادبی فورم نے اس سال بھی فن افسانہ کو فروغ دینے کے.

نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر ادبی فورم نے اس سال بھی فن افسانہ کو فروغ دینے کے.

نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر ادبی فورم نے اس سال بھی فن افسانہ کو فروغ دینے کے.

نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر ادبی فورم نے اس سال بھی فن افسانہ کو فروغ دینے کے.